امکانات کی دنیا، مگرمچھ کی طرح آنسو نہ بہائیں

ایک مغربی ماہرِ نفسیات نے انسانی ذہن اور اس کے رجحان کو جانچنے اور دنیا کے سامنے لانے کے لئے ایک منصوبے پر کام شروع کیا، اس مقصد کے لیے اس نے نے پچاس فٹ لمبا جبکہ پچیس فٹ چوڑا ایک زمین دوز حوض بنایا اور اس کے درمیان میں موٹی تہہ کے شفاف شیشے کی دیوار لگا دی، جس کے ہونے کا احساس ہوتا تھا نہ ہی آرپار دیکھنے میں کوئی دقت۔ یوں وہ مستطیلی حوض دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ آخر میں اس نے حوض کے حاشیوں پر مختلف زاویوں سے کیمرے نصب کر دیئے۔

مذکورہ حوض کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس نے حوض کے دونوں حصوں کو پانی سے بھر دیا۔ اس نے اپنے اس تجربے کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے حوض کے ایک حصے میں مچھلیاں جبکہ دوسرے حصے میں ایک مگرمچھ چھوڑ دیا اور خود آپریٹنگ روم میں سی سی ٹی وی کیمروں سے جڑی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری کہ مچھلیوں سے آنکھیں چار کرتے ہوئے مگرمچھ ان کی طرف لپکا، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! مگرمچھ ہزار ارمانوں کے ہوتے ہوئے غیر محسوس شیشے سے ٹکرا گیا اور یوں وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔

دوسری بار اس نے پھر اپنی توانائی یکجا کی، راستہ تبدیل کیا، دوڑا اور پھر اس شیشے سے بنی رکاوٹ سے ٹکرا گیا گیا اور اب کی بار بھی اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ پھر تیسری، چوتھی، پانچویں بار راستے تبدیل کرتے ہوئے اس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار ہی ٹھوکر کھاتا، ناکام ہوتا اور مقصد تک نہ پہنچ پاتا۔

آخر کار اس نے یہ طے کر لیا کہ اس کے راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ ہے، جس کے ہوتے ہوئے وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکتا۔ اب اس نے اپنی یہ کوشش ترک کر دی۔ اسی اثناء میں اس ماہر نفسیات نے حوض کے درمیان سے نصب کی ہوئی شیشے کی وہ دیوار اٹھائی جو مگرمچھ اور اس کے شکار کے درمیان رکاوٹ بنی رہی اور خود سکرین پر نظریں ٹکائے مگرمچھ کی حرکات و سکنات دیکھنے لگ گیا۔

اب مگرمچھ اور اس کے ہدف کے درمیان حائل رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں اور مگر مچھ کے لیے مچھلیوں کا شکار مشکل نہیں رہا بلکہ اس کی منزل چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔ اس کے باوجود اس ماہر نفسیات نے دیکھا کہ مگرمچھ اپنے شکار کی طرف نہیں بڑھ رہا، بلکہ اپنی جگہ ساکت و جامد بیٹھا ہے۔ حالانکہ مگرمچھ کو کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے اسے شکار کی طلب بھی ہے اور رکاوٹ ہٹائے چھ سات گھنٹے گزر چکے ہیں، لیکن مگرمچھ دور سے ہی اپنے شکار کو حسرت بھری نگاہوں سے محض دیکھ ہی رہا ہے، آگے بڑھ کر مچھلیوں کا شکار نہیں کرتا، حالانکہ اب اس کی منزل چند قدموں کے فاصلے پر ہے۔

سوچیے! ایسا کیوں ہوا؟ رکاوٹ ہٹنے کے باوجود وہ مگرمچھ اپنا ہدف کیوں حاصل نہ کر سکا؟ در حقیقت چھ سات مرتبہ کی کوشش میں ناکامی کے بعد مگرمچھ نے ایک غلط نتیجہ نکال کر یہ طے کر لیا کہ نہ نظر آنے والی کوئی ایسی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی ان مچھلیوں کا شکار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس غلط خیال نے اس کی ہمت ختم کر دی اور یوں اس نے کوشش ہی ترک کر دی۔

قارئین! ہماری کہانی بھی اس مگرمچھ سے مختلف نہیں۔ ہم ایک ہدف طے کرتے ہیں، ہدف کے حصول میں رکاوٹیں آتی ہیں اور بسا اوقات دو چار بار ناکامی بھی ہوتی ہے، جس سے ہم غلط نتیجہ نکال کر ہمت ہار جاتے اور کوشش ترک کر دیتے ہیں۔ یوں پھر ہمیشہ کے لئے حسرت کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں، حالانکہ اکثر اوقات ہماری کامیابی چند قدموں کے فاصلے پر ہوتی ہے۔

یہ امکانات کی دنیا ہے، ممکن ہے جس قدم پر ناکامی کا سامنا کرنے کی وجہ سے ہم ہمت ہار کے کوشش ترک کر بیٹھیں، اس سے اگلے ہی قدم پر کامیابی ہماری منتظر ہو۔ لہذا زندگی میں کامیابی کے لئے ہمت نہ ہاریں اور رکاوٹوں کے باوجود کوشش ترک نہ کریں۔ ہو سکتا ہے قدرت نے کسی وقت "نظر نہ آنے والی” وہ رکاوٹیں دور کر دی ہوں اور آپ کی منزل اور ہدف چند قدموں کے فاصلے پر ہو اور ہم زندگی کی ایک اہم کامیابی، ہدف اور مقصد کے حصول سے کہیں محروم نہ ہو جائیں۔

تحریر سوشل میڈیا پر شئیر کریں
Back to top button