ریاست کی بے رحم لاٹھی اور پی ٹی آئی کے ناسمجھ نوجوان

2017ء کے اوائل کی بات ہے جب سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیا تھا، مگر اس سے پہلے ہی ماحول بن چکا تھا کیونکہ الیکٹ ایبلز نے آشیانے تبدیل کرنے شروع کر دیئے تھے۔ بزرجمہر میاں ریاض حسین پیر زادہ اس وقت وزیر کھیل تھے، ایک غیر رسمی ملاقات میں انہوں نے مریم نواز کے قومی اداروں اور فوج سے متعلق بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا، مجھے تجسس ہوا کہ اپنی ہی حکومت کے خلاف ان کا وزیر اس طرح کی گفتگو کیسے کر سکتا ہے؟

ریاض حسین پیر زادہ میرا تجسس بھانپتے ہوئے گویا ہوئے کہ ہمارے جوان سرحدوں پر قربانیاں دے رہے ہیں اور سیاستدانوں کو ان کی قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے، میرے لئے اتنا جواب کافی تھا۔ میں نے سوالاً عرض کیا کہ آپ کسی دوسری پارٹی کو جوائن کرنے والے ہیں؟ پیر زادہ صاحب نے کہا کہ اگر صورتحال یونہی رہی تو کچھ سوچنا پڑے گا مگر مسلم لیگ ن میں شہباز شریف جیسے زیرک لوگ بھی موجود ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ مسلم لیگ ن میں دو واضح دھڑے بن چکے تھے ایک دھڑا نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ دوسرا دھڑا شہباز شریف کے ساتھ تھا۔ مریم نواز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھیں جبکہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان دینے سے گریزاں تھے۔

مسلم لیگ ن کی قیادت کچھ عرصہ تک زیر عتاب رہی مگر بالآخر ابتلا کا دور ختم ہوا، کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے ایک حکمت عملی کے تحت دونوں بیانیے جاری رکھے جبکہ اندر سے سب ایک تھے۔ شہباز شریف نے مشکل حالات میں خاموش رہنے کی جو پالیسی اپنائی تھی کچھ عرصہ بعد ہی مسلم لیگ ن کو اس کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے۔ ریاض حسین پیرزادہ کی طرح کئی دیگر رہنما اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جانے کی مخالفت کر رہے تھے، اب جبکہ پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنایا تو چند سال پہلے کی صورتحال میرے سامے آ گئی، میں نے اس سے نتیجہ اخذ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ یہاں چلنے والا نہیں ہے، خان صاحب مگر اس بات کا ادراک نہ کر سکے۔ پی ٹی آئی پر مشکل پڑی تو پارٹی میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو شہباز شریف کی طرف لچک کا مظاہرہ کرتا اور بتاتا کہ مقدر حلقوں کے خلاف پالیسی اپنا کر سیاست نہیں کی جا سکتی۔

پی ٹی آئی آج جس مقام پر ہے اس میں کسی کو دوش دینے کی بجائے خان صاحب کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لینا چاہئے۔ خان صاحب مقبولیت اور ووٹ بینک ہونے کے باوجود زیر عتاب کیوں ہیں؟ یہ کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کے جواب کیلئے افلاطون کی عقل کی ضرورت ہو۔ نو مئی کے واقعات سے پہلے خان صاحب کے بیانات ان کی سیاسی حکمت عملی اور بیانیے کی وضاحت کیلئے کافی ہیں، انہوں نے مقبولیت کے زعم میں قومی اداروں اور ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دیا، خان صاحب کی گرفتاری کے بعد کارکنوں کو احتجاج پر اکسایا گیا، کارکنوں نے جو ردعمل دیا اس کے پیچھے پی ٹی آئی قیادت کی سوچ تھی۔ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے برملا کارکنوں کو باہر نکلنے کیلئے ابھارا حالانکہ یہی موقع تھا جب پی ٹی آئی کو عقل و دانش کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی۔

نو مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد بھی چیئرمین پی ٹی آئی اور اعلیٰ قیادت کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ کھل کر ان واقعات کی مذمت کریں، خان صاحب روایتی مذمت سے آگے نہ بڑھ سکے بلکہ جب عدالت نے پوچھا تو خان صاحب نے کہا کہ ان کے اختیار میں نہیں کہ وہ کارکنوں کو روک سکیں، عدالت کے سامنے خان صاحب کا یہ بیان حقائق کے منافی تھا کیونکہ سادہ لوح کارکنان قیادت کے کہنے اور اشتعال دلانے پر ہی باہر نکلے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے کارکنوں سے تعلقی کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے جو سراسر زیادتی ہے، کیونکہ نوجوانوں پر غداری اور دہشتگردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں فوجی عدالتوں میں ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں، عین ممکن ہے بہت سوں کو سخت سزائیں سنائی جائیں، سینکڑوں نوجوان روزگار سے محروم ہو چکے ہیں جن میں سے کئی گھر کے واحد کفیل تھے۔ ہماری تجویز ہے کہ ایسے نوجوان جو قیادت کے بہکانے سے وقتی طور پر بہک گئے تھے ان سے تحریری معافی نامہ اور ضمانت لینے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے۔

پی ٹی آئی کا یوں بکھرنا افسوس ناک ہو گا بہت سے عوام خان صاحب کو پسند کرتے ہیں، دوراندیشی اور معاملہ فہمی کے فقدان نے پی ٹی آئی کو یہاں پہنچایا ہے خان صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کریں یہی ایک راستہ ہے جس میں پارٹی کی بقا ہے خان صاحب پہلے ہی بہت دیر کر چکے ہیں اگر مزید تاخیر کی گئی تو پارٹی کا ذکر تاریخ کے اوراق میں ہی ملے گا۔

تحریر سوشل میڈیا پر شئیر کریں

سید ذیشان علی کاظمی (صحافی)

سید ذیشان علی کاظمی صحافی ہیں، وہ گزشتہ 15 برسوں سے حالات حاضرہ، سیاسی، سماجی اور معاشی موضوعات پر لکھ رہے ہیں اس ای میل ایڈریس zeshansyedkazmi@gmail.com پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
Back to top button