سینکیانگ امن و ترقی کی بے نظیر داستان

سنکیانگ کا ذکر آتے ہی ذہن میں ایک ایسی سرزمین ابھرتی ہے جو اپنی تاریخ میں صدیوں سے تہذیبوں کے ملاپ اور راستوں کے سنگم کے طور پر جانی جاتی رہی۔ کبھی یہ ریشم کے راستے کا دل تھا، جہاں تاجر قافلے لے کر چین سے وسطی ایشیا اور پھر یورپ تک جاتے تھے۔ کبھی یہ دنیا کی بڑی سلطنتوں کے بیچ میں ایک ایسی زمین تھی جہاں ثقافتیں، مذاہب اور نسلیں ملتی رہیں۔ لیکن بیسویں صدی کے وسط تک آتے آتے یہ خطہ چین کے اندرونی ڈھانچے کا حصہ بنا، اور 1955 میں باضابطہ طور پر “ایغور خودمختار علاقہ” کہلایا۔ اس کے بعد شروع ہونے والا سفر آج ستر برس مکمل کر رہا ہے۔ یہ ستر برس محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ ایک پوری داستان ہیں، جس میں غربت، محرومی، ترقی، خوشحالی، چیلنجز اور کامیابیاں سب کچھ شامل ہے۔

جب 1955 میں سنکیانگ کو خودمختار علاقے کا درجہ دیا گیا تو اس وقت کی صورتحال بالکل مختلف تھی۔ زراعت روایتی طریقوں سے چل رہی تھی، صنعت نہ ہونے کے برابر تھی، شرح خواندگی انتہائی کم تھی، اور طبی سہولتیں بنیادی حد تک محدود تھیں۔ یہاں کی اکثریتی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی تھی جہاں تعلیم اور روزگار کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔ ایسے ماحول میں علیحدگی پسند بیانیے اور بیرونی اثرات آسانی سے جگہ بنا سکتے تھے۔ لیکن چین کی مرکزی قیادت نے ابتدا ہی سے یہ فیصلہ کیا کہ اس خطے کو قومی دھارے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

ابتدائی دہائیوں میں بڑے پیمانے پر زرعی اصلاحات کی گئیں۔ زمین کی تقسیم کے ذریعے کسانوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی پیداوار بڑھا سکیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہوئی، چھوٹے ڈیم بنائے گئے، سڑکیں تعمیر ہوئیں اور شہروں میں چھوٹی صنعتوں کا آغاز ہوا۔ لیکن ان سب کے باوجود سنکیانگ کی ترقی کی رفتار ملک کے مشرقی حصے کے مقابلے میں سست رہی۔ یہی وجہ تھی کہ کئی دہائیوں تک یہ خطہ نسبتاً پسماندہ رہا اور علیحدگی پسند عناصر کو بیانیہ بنانے کا موقع ملتا رہا۔

اصل تبدیلی بیسویں صدی کے آخری برسوں اور اکیسویں صدی کے آغاز پر آئی جب چین نے اصلاحات اور اوپننگ اپ کی پالیسی کے تحت مغربی خطوں کو بھی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ویسٹرن ڈویلپمنٹ اسٹریٹیجی کے تحت سنکیانگ کو خاص توجہ دی گئی۔ اربوں یوان کی سرمایہ کاری یہاں کی صنعت، زراعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کی گئی۔ تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے اور ان پر کام شروع ہوا۔ کاٹن کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور یہ خطہ چین کی سب سے بڑی کپاس پیدا کرنے والی بیس بنا۔ ریل کے جال پھیلائے گئے اور سڑکوں کے ذریعے سنکیانگ کو نہ صرف بیجنگ اور شنگھائی بلکہ قازقستان، کرغزستان اور پاکستان تک جوڑ دیا گیا۔

پچھلی دو دہائیوں میں تو منظر نامہ یکسر بدل گیا۔ آج سنکیانگ میں ہائی اسپیڈ ریل دوڑتی ہے، جدید شاہراہیں سینکڑوں میل تک پھیلی ہیں، اور ائیرپورٹس دنیا کے بڑے شہروں کو یہاں تک لانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ اربوں ڈالر کے منصوبوں نے اس خطے کی معیشت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں اور لاکھوں افراد غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔ چین کی قیادت نے یہ ثابت کر دکھایا کہ جب ترقی کا دروازہ کھلتا ہے تو شدت پسندی کے بیج خود بخود مرجھا جاتے ہیں۔

یہ بات حقیقت ہے کہ غربت اور محرومی وہ زمین ہے جہاں انتہا پسندی پھلتی پھولتی ہے۔ سنکیانگ میں یہ تجربہ سب کے سامنے ہے۔ جس علاقے میں کبھی دہشت گرد گروہوں کو مقامی ہمدردی حاصل تھی، آج وہی علاقے ترقی اور خوشحالی کے نئے مراکز بن رہے ہیں۔ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، صنعت میں سرمایہ کاری اور سیاحت میں مقامی ثقافت کے فروغ نے یہاں کے لوگوں کی زندگی بدل دی ہے۔ خاص طور پر سیاحت نے ایغور ثقافت کو دنیا کے سامنے مثبت انداز میں پیش کیا ہے۔ موسیقی، کھانا، رقص اور روایتی بازار آج نہ صرف مقامی لوگوں کی شناخت ہیں بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود ایک خطرہ مسلسل موجود رہا ہے: افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ ایک ایسی تنظیم ہے جسے عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ یہ گروہ ماضی میں سنکیانگ میں حملے کرتا رہا اور علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کی کوشش کرتا رہا۔ امریکہ کے انخلا کے بعد افغانستان میں جو طاقت کا خلا پیدا ہوا، اس نے ان گروہوں کو پھر سے سرگرم ہونے کا موقع دیا۔ چین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ اسی لیے بیجنگ نے کابل اور اسلام آباد دونوں کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھایا۔ چین نے طالبان قیادت کے ساتھ بات چیت میں یہ واضح کیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی صورت چین کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان نے بھی اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ پاکستان جانتا ہے کہ افغانستان سے اٹھنے والا کوئی بھی شدت پسند گروہ اس کے اپنے امن کو بھی براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

صدر شی جن پھنگ کا وژن “مشترکہ خوشحالی” اس وقت سنکیانگ میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کا جال بچھایا گیا، ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کھولے گئے تاکہ نوجوان ہنر سیکھ سکیں اور معیشت کا حصہ بن سکیں۔ صحت کے شعبے میں بڑے ہسپتال اور کلینکس بنائے گئے تاکہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں لوگوں کو علاج کی سہولت میسر ہو۔ خواتین کے لیے خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں تاکہ وہ کاروبار اور روزگار میں آگے بڑھ سکیں۔ مذہبی آزادی کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے اور مساجد کو فعال رکھا گیا ہے تاکہ لوگ اپنی عبادت کھلے دل سے کر سکیں۔ یہ سب اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقی کا مطلب صرف سڑکیں اور عمارتیں نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر شہری خود کو قومی ترقی کا حصہ سمجھے۔

سنکیانگ کے بارے میں مغربی میڈیا اور بعض این جی اوز مسلسل یہ بیانیہ دیتے ہیں کہ یہاں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم زمینی حقائق کو دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ غربت کے خاتمے کے اعداد و شمار، تعلیم کے فروغ، صحت کی سہولتوں میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور سیاحت کی ترقی سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ ایک کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ صدر شی کا متوقع دورہ اور ستر سالہ تقریبات اسی بیانیے کا عملی جواب ہوں گی۔

یہاں پاکستان کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ پاکستان نے بھی گزشتہ کئی دہائیوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔ ہمارے ملک کے کئی علاقے معاشی محرومی اور سماجی پسماندگی کے باعث شدت پسندوں کے لیے آسان ہدف بنتے رہے ہیں۔ سنکیانگ کی ستر سالہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب تک شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع نہیں ملتے، انتہا پسندی کو ختم کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ امن صرف ہتھیاروں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اسکولوں، ہسپتالوں، کارخانوں اور کھیتوں سے پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے سنکیانگ کا ماڈل کئی حوالوں سے اہم ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جڑیں صرف مذہبی انتہا پسندی میں نہیں ہوتیں بلکہ وہ زیادہ تر غربت، محرومی اور عدم مساوات سے پھوٹتی ہیں۔ اگر کسی علاقے کے لوگ یہ محسوس کریں کہ وہ قومی ترقی سے کٹے ہوئے ہیں، ان کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں، ان کے ہسپتال علاج سے محروم ہیں اور ان کے نوجوان بے روزگار ہیں، تو وہاں شدت پسندی کے بیانیے کو جگہ ملنا فطری بات ہے۔ سنکیانگ میں چین نے اسی حقیقت کو بنیاد بنا کر اپنی پالیسی ترتیب دی۔ پہلے انفراسٹرکچر بنایا گیا، پھر تعلیم اور صحت پر توجہ دی گئی، اور ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خطہ جو کبھی علیحدگی پسندی کی علامت تھا، آج ترقی اور خوشحالی کا استعارہ بن چکا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں اگر دیکھیں تو یہی مسائل ہمارے سامنے بھی ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقے دہائیوں سے پسماندگی اور محرومی کا شکار ہیں۔ ان علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں محدود ہیں، روزگار کے مواقع کم ہیں، اور ریاستی اداروں کی رسائی کمزور ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے شدت پسند گروہ اپنے پروپیگنڈے سے پر کرتے ہیں۔ اگر پاکستان اس خلا کو ترقی اور خوشحالی سے پر کرے، اگر ان علاقوں کے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ وہ بھی قومی ترقی کا حصہ ہیں، تو شدت پسندی کی جڑیں خود بخود کمزور ہو جائیں گی۔

سنکیانگ میں سیاحت کے فروغ نے ایک اور سبق دیا ہے۔ ایغور ثقافت، روایتی بازار، موسیقی، کھانے اور لباس کو دنیا کے سامنے مثبت انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی لوگوں کی آمدنی بڑھی بلکہ ان کی ثقافتی شناخت بھی محفوظ رہی۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ماڈل اہم ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور شمالی علاقوں میں بے پناہ ثقافتی ورثہ موجود ہے۔ اگر ان خطوں کی ثقافت کو مثبت انداز میں پیش کر کے سیاحت کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف مقامی لوگوں کو آمدنی فراہم کرے گا بلکہ شدت پسندی کے بیانیے کا توڑ بھی ہوگا۔

افغانستان کا مسئلہ بھی پاکستان اور چین دونوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔ ای ٹی آئی ایم جیسے گروہ نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون اس لیے ناگزیر ہے کہ یہ گروہ سرحدی علاقوں میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین نے اس خطرے کو سمجھتے ہوئے انٹیلی جنس شیئرنگ، بارڈر مینجمنٹ اور سکیورٹی تعاون کو بڑھایا ہے۔ اس کے علاوہ اقتصادی تعاون بھی دونوں ممالک کو قریب لاتا ہے۔ سی پیک دراصل اسی تعاون کا عملی اظہار ہے۔ سنکیانگ کو گوادر بندرگاہ سے جوڑنے والا یہ منصوبہ نہ صرف چین کے لیے تجارتی راستہ ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی ترقی کا ایک نیا دروازہ ہے۔

مغربی دنیا کی تنقید اور پروپیگنڈا اس کہانی کا ایک اور پہلو ہے۔ مغربی میڈیا اور این جی اوز مسلسل یہ بیانیہ پھیلاتے رہے کہ سنکیانگ میں انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر لاکھوں لوگ غربت سے نکلیں، اگر تعلیم عام ہو، اگر صحت کی سہولتیں بہتر ہوں، اگر روزگار کے مواقع بڑھیں تو کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے یا ان کی اصل تکمیل؟ سنکیانگ کے زمینی حقائق مغربی بیانیے سے مختلف تصویر دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین ان بیانیوں کو بار بار رد کرتا ہے اور اپنی ترقی کے اعداد و شمار پیش کرتا ہے۔

پاکستان کو اس تناظر میں ایک اور سبق ملتا ہے: دنیا کے سامنے اپنا بیانیہ مضبوط انداز میں پیش کرنا۔ پاکستان پر بھی اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہاں شدت پسندی اور دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکا۔ لیکن اگر پاکستان اپنے ترقیاتی اقدامات، غربت کے خاتمے کی کوششوں، تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری اور سی پیک جیسے منصوبوں کے نتائج دنیا کے سامنے لائے تو منفی بیانیوں کا توڑ کیا جا سکتا ہے۔ بیانیے کی جنگ صرف مغرب اور چین کے درمیان نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔

سنکیانگ کی ستر سالہ کہانی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ترقی محض معاشی پہلو تک محدود نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ جب ایک ایغور کسان اپنے بیٹے کو اسکول جاتا دیکھتا ہے، جب ایک ایغور خاتون کو کاروبار شروع کرنے کا موقع ملتا ہے، جب ایک ایغور نوجوان جدید صنعت میں نوکری کرتا ہے تو وہ خود کو قومی دھارے کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ترقی نسلی اور ثقافتی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بھی سبق ہے کہ سماجی ہم آہنگی کے بغیر ترقی مکمل نہیں ہوتی۔ اگر ملک کے سب گروہ یہ محسوس کریں کہ وہ برابر کے شہری ہیں اور ان کے لیے بھی مواقع موجود ہیں تو شدت پسندی کی زمین ختم ہو جائے گی۔

یکم اکتوبر کی تقریبات اس ستر سالہ سفر کا اعتراف بھی ہوں گی اور مستقبل کا اعلان بھی۔ صدر شی کی متوقع شرکت اس موقع کو ایک تاریخی سنگ میل میں بدل دے گی۔ یہ پیغام ہوگا کہ ترقی کا سفر اب ناقابل واپسی ہے۔ سنکیانگ کی ستر سالہ کہانی پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ آئینہ دکھاتا ہے کہ امن اور ترقی کا راستہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ہتھیاروں سے وقتی امن قائم ہو سکتا ہے لیکن مستقل امن صرف تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی انصاف سے آتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ صرف بندوقوں سے نہیں جیتی جاتی۔ یہ جنگ اسکولوں میں لڑی جاتی ہے جہاں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، یہ ہسپتالوں میں لڑی جاتی ہے جہاں مریضوں کو علاج ملتا ہے، یہ کارخانوں میں لڑی جاتی ہے جہاں مزدور کو روزگار ملتا ہے، یہ کھیتوں میں لڑی جاتی ہے جہاں کسان کو اپنی محنت کا صلہ ملتا ہے۔ اگر ترقی کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوں تو شدت پسندی کے دروازے خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو سنکیانگ کی ستر سالہ تاریخ ہمیں دکھاتی ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔

تحریر سوشل میڈیا پر شئیر کریں
Back to top button